ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / شیوسینا سمیت مودی مخالف دانشوروں اورسیاسی لیڈروں کے خلاف اننت کمار ہیگڈے کی زہر افشانی

شیوسینا سمیت مودی مخالف دانشوروں اورسیاسی لیڈروں کے خلاف اننت کمار ہیگڈے کی زہر افشانی

Wed, 04 Apr 2018 18:26:46    S.O. News Service

بنگلورو4؍اپریل (ایس او نیوز) پچھلے کچھ دنوں سے خاموش دکھائی دینے والے مرکزی وزیر اننت کمار ہیگڈے نے ٹویٹر کے ذریعے پھر سے زہر اُگلا ہے۔ اس بار وزیر موصوف کے نشانے پر مودی سرکار کے خلاف محاذ بنانے میں مصروف سیاسی لیڈران ہیں اور اننت کمار نے بی جے پی کی حلیف پارٹی شیوسینا کو بھی نہیں بخشا ہے۔

اننت کمار نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم مودی کے خلاف ’’تمام چوروں‘‘ نے ایک ساتھ محاذبنانے کی تیاری کرلی ہے، کیونکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی وجہ سے ان لوگوں کی غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگی ہے اور ان کی زندگی مشکلات میں گھِر گئی ہے۔
خیال رہے کہ ملک بھر میں جہاں اپوزیشن کے اہم سیاسی لیڈران سیکیولر بنیادوں پر یکجا ہونے اورایک بڑا مورچہ بنانے کی تیاری کررہے ہیں وہیں پر دانشوروں اور ترقی پسند خیالات کے حامی مصنفین بھی بی جے پی ، آر ایس ایس اور وزیراعظم نریندرا مودی کی کھل کرمخالفت کررہے ہیں۔ ادھر مہاراشٹرا میں بی جے پی کے ساتھ’ ساجھا سرکار‘ میں شامل شیوسینا بھی مودی کی پالیسیوں کے خلاف مسلسل پلٹ وار کررہی ہے۔ 

اس پس منظر میں اننت کمار ہیگڈے نے اپنی عادت کے مطابق مودی مخالف کیمپ بنانے والوں کونہ صرف’’ چوروں ‘‘کے خطاب سے نوازا ہے بلکہ گجرات کے حوالے سے کہا ہے کہ:’’ وہاں پر حالیہ الیکشن کے دوران ترقی پسندانہ میلان سے قربت رکھنے والی نوجوان قیادت (مودی مخالف) جو ابھری ہے اس کا انتخابی خرچ دہشت گردوں نے برداشت کیا ہے۔‘‘ شیوسینا کے تعلق سے بہت ہی سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ:’’شیوسینا والے جو صرف ہندوؤں کے مفاد کے لئے جینے کی بات کررہے تھے ، آج وہ مودی کے بدترین دشمن بن گئے ہیں اورہر حال میں’ ہفتہ وصولی‘(جبری طورپر پیسے اینٹھنا) پر آمادہ ہوگئے ہیں۔‘‘

مودی مخالفین کے تعلق سے ایک اور ٹویٹ میں اننت کمار نے کہا ہے کہ : ’’ یہ جو مودی مخالف گینگ ہے،وہ اقتدار حاصل کرنے کے لئے ملک اور ہندو سماج کے ساتھ بے وفائی جیسے اقدامات کرنے کے لئے بھی تیار ہے۔کیونکہ ایک ایسے وقت میں جبکہ پوری دنیا ہندوستان کی تعریف کررہی ہے ، اپوزیشن پوری طاقت کے ساتھ مودی کی مخالفت میں لگی ہوئی ہے۔‘‘


Share: